با با جانی بس بہت ہو گیا…! میں اب اور یہاں نہیں رہ سکتا. صارم باہر سے آیا اپنا فائل فولڈر ٹیبل پہ تقریباً پھینکنے کے سے انداز میں دھرا اور صوفے پر ڈھیر ہو گیا.کچھ دیر وہ یوں ہی آنکھیں بند کر کے پڑا رہا گویا اپنے اندر کے دکھ غصے اور فرسٹریشن کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہو.دو کمروں کا چھوٹا سا گھر تھا کمروں کے آگے ایک برآمدہ اور برآمدے کے باہر چھوٹے سے صحن میں کیاری لگی ہوئ تھی جہاں ہمہ وقت چنبیلی اور رات کی رانی کی خوشبو رچی بسی رہتی تھی صحن کے ایک کونے میں کچن جبکہ دوسرے کونے میں باتھروم بنا ہوا تھا. گھر قدرے پرانی طرز کا تھا. یہ چھوٹا سا گھر اپنے اندر بسنے والے دو مکینوں کی کُل کائنات تھا صارم اور اس کے بابا. صارم کی اماں کا اس وقت انتقال ہو گیا تھا جب ابھی اس نے بچپن سے لڑکپن میں قدم رکھا تھا… یوں اچانک موت سے! اسکے بابا ڈھے سے گئے تھے اماں کے جانے کے ایک ہفتے بعد ہی انہیں فالج کا شدید اٹیک ہوا تھا جس کے نتیجے میں انکے ایک بازو اور ٹانگ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا. صارم اتنا تو سمجھدار تھا کہ سمجھ سکے کہ اب اسے نا صرف اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنی تھی بلکہ اپنے بابا کوبھی سنبھالنا تھا. وہ بہت ہونہار لڑکا تھا صبح میں پڑھائی کرتا اور شام میں اپنے اخراجات اور بابا کی دوائی وغیرہ کا خرچ پورا کرنے کے لئے ایک دفتر میں ڈیٹا انٹری کی پارٹ ٹائم جاب کیا کرتا تھا. دن گزرتے گئے اور وہ وقت آ گیا جب زندگی کی گاڑی اس تھوڑے سے خرچ میں چلانا مشکل ہو گیا اور پھر وہ وقت آیا  جو اس جیسے ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے کہ وہ کم از کم اتنا کما سکے کہ پیٹ کا ایندھن بھر سکے. روز صبح میں باپ کی دعاؤں کے سائے میں نوکری ڈھونڈنے کے لئے نکلتا مگر نتیجہ وہ ڈھاک کے تین پات نکلتا اوپر سے ارد گرد سے خبریں سن کر اسے مزید ڈپریشن ہوتا کہ فلاں کا بیٹا اتنے ہزار ماہانہ پے نوکری لگ گیا ہے یا فلاں کا بیٹا ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا ہے ملک سے باہر گیا ہے اور ان کے دن پھِر گئے ہیں. یہ سن سن کر اس کا دماغ مزید پھٹتا تھا. آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ایک جگہ انٹرویو کی کال آئی وہ جب وہاں پہنچا تو تب تک “پرچی” آ چکی تھی ساتھ بیٹھا ایک شخص بولا میرے بھائی یہاں کیا کر رہے ہو یہاں تو سلیکشن ہو چکی ہے اور وہ تو جیسے سکتے می‍ں ہی آ گیا تھا. پھر وہی شخص کہنے لگا کہ بھائی میں تو خود پاکستان سے باہر جا رہا ہوں یہاں رکھا ہی کیا ہے اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے وغیرہ وغیرہ اور وہ بس خاموشی سے ایک نظر اس پر ڈالے بغیر باہر نکل آیا اور گھر کی جانب چل دیا… گھر آ کر بھی اس کا دکھ اور غصہ کسی طور کم ناں ہوا تو گویا وہ ایک فیصلہ کر کے اٹھا اور اپنے بابا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا. اس کے بابا اس وقت کمرے میں موجود واحد پرانی مگر قدرے اچھی حالت میں موجود آرام کرسی پر براجمان آنکھوں کو موندے نجانے کن سوچوں میں گم تھے کہ صارم کی آواز نے ان کی سوچ کے ارتکاز کو توڑا…!
“بابا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے”
کیا بات کرنی ہے بیٹا…؟
وہ بابا میں سوچ رہا تھا کہ اب اس ملک میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے. میں کسی دوسرے ملک جانا چاہتا ہوں جہاں کم از کم میں زندگی تو گزار سکوں.
انہوں نے استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھا اور آرام کرسی سے ٹیک لگا کر واپس آنکھیں موند لیں گویا صارم کو مزید بولنے کا اشارہ دیا. وہ ایسے ہی تھے جب تک پوری بات ناں سن لیتے کوئی رائے قائم ناں کرتے ان کے نزدیک نسلِ نُو کو سمجھانے کے لیے یہی بہترین طریقہ تھا.
وہ بابا میں کہہ رہا تھا کہ میں کہیں باہر چلا جاتا ہوں. دیکھیں اس ملک سے ہمیں مزید تو کچھ ملنے والا نہیں ہے اور یہاں رکھا ہی کیا ہے ناں نوکریاں ناں پیسہ ناں ہی تعلیم کا کوئی مناسب انتظام اور ناں ہی بنیادی ضروریات…!
(بابا صاحب مبہم سا ہنسے گویا سوچ رہے ہوں اسی ملک میں رہ کر اسی ملک سے تعلیم حاصل کر کے اب وہی نوجوان اسی مٹی کو باتیں سنا رہا ہے کہ یہاں رکھا ہی کیا ہے)
دیکھیں بابا باہر کے ملک میں کتنی سہولیات موجود ہیں یہاں تو گھر سے نکلو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ زندہ لوٹیں گے بھی یا نہیں… بات مکمل کر کے وہ امید بھری نظروں سے باپ کو دیکھنے لگا کہ اب وہ کہیں گے کہ بیٹا تم تیاری کر لو جو کچھ چاہیے میں پورا کرنے کی کوشش کروں گا…
مگر  بابا صاحب نے مسکرا کر اسے دیکھا اور کہا بیٹا آپ نے اس ملک کو اتنا کچھ کہہ لیا یہ سوچے بغیر کہ اس کے لئیے ہم نے کتنی قربانیاں دی تھیں…
پلیز بابا..! وہ سب باتیں اب پرانی ہو گئ ہیں. عجیب دقیانوس قسم کے لوگ تھے جو جانیں تک قربان کر گئے… آج ہندوستان اکٹھا ہوتا تو کم از کم ہمیں یوں روٹی کے لئے تو در بدر ناں ہونا پڑتا…
بابا صاحب سوچ کر رہ گئے نسلِ نوُ کا جوان تھا دلائل کے جواب میں مضبوط دلائل دینے سے ہی سمجھتا تھا…
اچھا بیٹا جی ایک بات تو بتائیں آپ باہر کے ملک کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہاں یہ موجود ہے وہ موجود ہے… تو مجھے ایک بات بتائیں کہ وہاں یہ سب پہلے سے موجود تھا یا بعد میں آیا..؟
صارم نے جھٹ سے جواب دیا بعد میں..!
تو بیٹا جی بعد میں وہاں کیسے سہولیات آ موجود ہوئیں؟
مطلب؟ صارم الجھن بھری نظروں سے باپ کو دیکھنے لگا…
مطلب یہ کہ بیٹا جی یہ سہولیات تب حاصل ہوئیں جب وہاں کے لوگوں نے کام کیا، محنت کی اور اس مقام تک پہنچے…!
جی بابا! صارم کی آواز اب کے ہلکی تھی…
تو بیٹا جی ایک بات بتائیں کہ آپ نے اب تک کیا کِیا ہے اس ملک کے لئے کہ یہ ملک بھی دوسرے املاک کی طرح ترقی یافتہ ہو؟
ان کی اس بات پر صارم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں پہلے والا جوش جھاگ کی طرح بیٹھتا نظر آیا… پچھلے دلائل کمزور پڑتے نظر آئے…
بابا وہ…! کوئی جواب ناں بن پڑا تو خاموش ہو گیا
بابا صاحب مزید گویا ہوئے بیٹا جی مُلکِ پاکستان کو باتیں سنانے سے بہتر ہے کہ ہم ایک بار اپنا محاسبہ کریں اپنے آباء کی قربانیوں کو یاد کریں ناں کہ اس مٹی کو برا بھلا کہیں جس کے سینے میں نجانے کتنے افراد کا خون پنہاں ہے جس وجہ سے یہ کندن بنی ہے…
جی بابا…! وہ بس اتنا ہی کہہ سکا
بیٹا جی اٹھارہ سال کا تھا میں جب ایک دن میں نے اپنے بابا سائیں کو کہتے سنا تھا کہ اگر پاکستان نہ بنا تو ایک بھی مسلمان کرہ ہندوستان پہ نہیں بچے گا… اس دن کے بعد سے میں بزرگوں کی محفل میں بیٹھنا شروع ہو گیا یہ جاننے کے لئے کہ آگے کیا ہونے والا ہے پھر ایک دن خبر آئی کہ ہندو بنیوں نے ساتھ والے گاؤں پر حملہ کیا ہے مردوں اور بچوں کو مار دیا گیا جبکہ عورتوں کا استحصال کیا گیا اور قیمتی سامان وہ اپنے ساتھ لے گئے بیٹا جی آپ صرف سوچ ہی سکتے ہیں کہ اس وقت یہ سب سن کر کیا گزری ہو گی ہم پر.. میں تو اس وقت یہی سوچ کر کانپ گیا تھا کہ اس وقت وہاں میرا خاندان بھی ہو سکتا تھا. لیکن بچت تو کسی صورت ممکن نہ تھی آج ان کا ٹارگٹ ساتھ والا گاؤں تھا تو کل کو ہمارا ہی ہونا تھا موت کی تلوار ہمہ وقت سر پر لٹک رہی تھی.
وہ سانس لینے کو ایک لمحہ رکے اور پھر سے گویا ہوئے
ایک ہفتہ بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ان کا اگلا نشانہ ہمارا گاؤں ہو گا. میں بڑے ابا کے ساتھ کئی بار “لے کے رہیں گے پاکستان” جیسی تحریکوں میں شامل ہوا تھا. اس وقت تقریباً سب مسلمان ہی قائد کے زیرِ نگرانی پاکستان کے حصول کے لیے کوشاں تھے.چودہ اگست کو رات بارہ بجے جب اعلان ہوا کہ “یہ ریڈیو پاکستان ہے” اس وقت ہم سب میں خوشی کی ایک انوکھی لہر دوڑ گئی تھی کہ اب ہم جلد ہی پاکستان چلے جائیں گے پھر جہاں نا جان جانے کا خوف ہو گا اور نا ہی کوئی اور ڈر ہو گا مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا…! جس صبح سِکھوں کے ساتھ مل کر ہندوؤں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کرنا تھا اس سے ایک رات پہلے ہم نے پاکستان کی طرف ہجرت کرنی تھی لیکن شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ میں بابا کے منع کرنے کے باوجود دوسرے گاؤں میں رہائش پذیر اپنے ایک ہندو دوست سے ملنے روانہ ہو گیا.
وہ پھر سانس درست کرنے کو رکے… صارم نے ان کی جانب دیکھا گویا ان کے مزید بولنے کا منتظر ہو..!
ابا جان کو بہت اسرار کر کے میں نے کہا کہ آپ بھائی جان کے ساتھ باقی سب کو لے کر یہاں سے روانہ ہو جانا میں وہاں سے خود آ جاؤں گا اور راستے میں آپ کے ساتھ مل جاؤں گا. اباجان راضی تو ہو گئے مگر کچھ خوفزدہ تھے کیا کرتے باپ تھے ناں… خیر میں وہاں چلا گیا اپنے دوست سے مل کر میں واپسی کی راہ کو نکلا. میرے اس ساتھی نے میری بہت مدد کی جہاں تک مجھے ہندوؤں کے شکنجوں سے نکال سکتا تھا بحفاظت نکال لے گیا لیکن پھر وہ ہوا جو میں نے کبھی سوچا نہ تھا راستے  میں ایک جگہ مجھے میری بہن کا آنچل گرا ہوا نظر آیا آسمان کا پھٹنا اور پیروں کے نیچے سے زمین کا سرکنا شاید اسی کو کہتے ہیں خیر میں دل پر پتھر رکھ کر سر گرمِ سفر رہا ابھی کچھ مسافت ہی تہ کی ہو گی کہ مجھے میرے ابا کے ایک عزیز ملے جنہوں نے مجھے بتایا کہ میرا خاندان شہادت کا مرتبہ حاصل کر چکا ہے. آنکھوں میں دکھ ان کے بچھڑنے کا تھا یا ان کے شہادت کے رتبے پر فائز ہونے کا میں شاید اس وقت ان میں تفریق ناں کر سکا…
بیٹا جی اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے خاندان کے خاندان جان سے گزر گئے ہزاروں مائیں آج بھی اپنے جگر گوشوں کو بہنیں اپنے بھائیوں کو اور عورتیں اپنے سر کے تاج بارڈر پر صرف اس لیے بھیج دیتی ہیں کہ ملک کی حفاظت میں وہ اپنی جان دان کر دیں ورنہ ان کا آپ سے رشتہ ہی کیا ہے نا کبھی آپکو دیکھا نا جانا بلکہ انہیں تو یہ بھی معلوم نا ہو گا کہ اس ملک میں صارم نام کا کوئی ذی نفس بھی موجود ہو گا اور آپ کہتے ہیں کہ اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے.آزادی کی قیمت جاننی ہے تو جا کر آج اپنے ان کشمیری بھائیوں سے پوچھیں جو نجانے کب سے آزادی کے لیے کوشاں ہیں جن کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صبح کا سورج دیکھ سکیں گے بھی کہ نہیں مگر وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں… کس لیے؟ کہ ان کے آنے والی نسلیں آزادانہ زندگی گزاد سکیں نا کہ یہ سننے کے لیے کہ اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے؟ بہت مایوس کیا ہے مجھے آپ نے آج…!
اتنا کہہ کر بابا صاحب خاموش ہو گئے شاید الفاظ ختم ہو گئے تھے یا دکھ کی ضرب کاری تھی… تفریق کرنا بے کار تھا…!
صارم چند لمحے ان کو آنکھوں میں ندامت کے آنسو لیے دیکھتا رہا… شاید بند آنکھوں سے اس وقت بابا صاحب بھی رو رہے تھے آنسو پلکوں کی باڑ توڑنے کو بےتاب تھے… پھر وہ ایک دم اٹھ کر بابا صاحب کے پاس آیا اور ایک دم سے ان کے گلے لگ گیا… مجھے معاف کر دیں بابا صاحب بہت مایوس کیا ہے نا میں نے آپ کو… آج سے میں وعدہ کرتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو سکا اس ملک کے لیے کچھ نا کچھ ضرور کروں گا اور پھر وہ بابا صاحب کا سر چومتا ایک نئے عزم کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا…آج اقبال کا ایک اور شاہیں راہِ راست پر آیا تھا بابا صاحب نے آنکھوں میں نمی لیے اُسکی پشت کو مسکرا کر دیکھا اور پھر سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں…
اور قلم ٹوٹ گیا…!

👈ختم شُد…!!!